(دہلی اور لکھنؤ میں وضع داری کی مختصر تاریخ)
وضعدار دوست نیرّمسعود کے نام
باربرا ڈیلی مٹکاف اپنی کتاب Moral Conduct and Authority: The Place of Adab in South Asian Islam کے تعارف میں لکھتی ہیں:
’’درست نظم و ضبط، صحیح طرزِ عمل اور بجا ذوق سے متعلق تمام فیصلوں میں ’ادب‘ انسانی قوتِ ارادی کے استعمال کو بہت اونچا مقام دیتا ہے۔ یہ تہذیب یافتہ طرزِ عمل اور بدتہذیبی سمجھے جانے والے طرزِ عمل کے درمیان ظاہر یا مضمر انداز میں تمیز کرتا ہے، اور موخرالذکر کو اکثر زمانہ قبل از اسلام کے رواج کے طور پر بیان کرتا ہے‘‘۔۱
مسلمانوں کی اکثریت کا خیال کچھ بھی ہو لیکن قبل از اسلام کا دورِ جاہلیہ بھی تہذیبی آداب سے عاری نہیں تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بعثتِ اسلام سے چند صدیوں بعد ہی ان آداب کے جاتے رہنے کو نہ صرف نوٹ کیا گیا بلکہ اس پر افسوس بھی ظاہر کیا گیا۔
الہجویری، جو جنوبی ایشیا میں لاہور کے داتا صاحب کے نام سے جانے جاتے ہیں، ’کشف المحجوب‘ کے معروف مصنف ہیں جو تصوف کا اوّلین معلوم فارسی متن ہے۔ اس کتاب کے آغاز میں وہ اپنے زمانے کے انسانی معاشرے کی افسوسناک حالت کی مذمت کرتے ہیں، اور پھر اپنے ایک پیشرو صوفی کی یہ بات اپنی تائید کے ساتھ نقل کرتے ہیں: ’’ہمیں ایک ایسے زمانے کا سامنا ہے جس میں نہ اسلام کے آداب ہیں اور نہ جاہلیت کے اخلاق اور نہ مروّت کے اہلام‘‘۔۲
جیساکہ عام طور پر معلوم ہے، بیشتر اسلامی سرزمینوں کی اشرافی ثقافتوں میں بڑی سرگرمی کے ساتھ ادب اور اخلاق کے ایسے متون تیار کیے گئے جن میں وہ آداب بیان کیے جاتے تھے جن کی پاسداری ان ثقافتوں کے ارکان سے ان کی زندگی کے تقریباً تمام پہلوؤں میں مطلوب ہوتی تھی۔ ایسے متعدد متن نوعمر اشرافی مردوں کی تعلیم کا لازمی حصہ ہوتے تھے اور ان میں سے کئی ایک کو ان کے زمان و مکاں سے باہر بھی تسلیم کیا اور پڑھا جاتا رہا۔ ’مجموع النوادر‘ جس کا زیادہ معروف عنوان ’قابوس نامہ‘ ہے (گیارہویں صدی)، ’چہار مقالہ‘ (بارہویں صدی)، ’اخلاقِ ناصری‘ (تیرہویں صدی)، ’اخلاقِ محسنی‘ (پندرہویں صدی) اور ’اخلاقِ جلالی‘ (سولہویں صدی) ایسی مشہور کتابیں ہیں جو اناطولیہ سے ہندوستان اور وسط ایشیا تک۳ فارسی خواں معاشروں میں وسیع پیمانے پر پڑھی جاتی تھیں۔ انیسویں صدی میں جب ہندوستان میں لیتھو کی چھپائی شروع ہوئی تو سب سے پہلے چھپنے والی کتابوں میں ’اخلاقِ ناصری‘ اور ’اخلاقِ محسنی‘ بھی شامل تھیں اور برسوں تک اسکولوں اور کالجوں میں فارسی زبان کے نصاب کا مستقل حصہ رہیں۔
اگر معاشرتی آداب کو متعین کرنے اور ان پر عمل کرانے کی خواہش اتنی شدید تھی تو ایک سوال لازماً پیدا ہوتا ہے: انھی اشرافی گروہوں کے وہ افراد کیا کرتے تھے جو دوسروں سے مختلف ہونے کی خواہش رکھتے تھے، یعنی دوسرے لفظوں میں جو یہ محسوس کرتے تھے کہ معاشرے کا ادب آداب پر اصرار انھیں ناگوار تسلیم و رضا پر مجبور کررہا ہے؟ کیا آداب کی پابندی کرنے والے سماج میں ایسا کوئی فرد اپنی انفرادیت کے واضح اظہار کے لیے کوئی ایسا طریقہ اختیار کرسکتا تھا کہ۔۔۔۔ کم از کم خود اپنی نگاہوں میں۔۔۔۔ پوری طرح ’مہذب‘ کہلانے کے دعوے سے بھی محروم نہ ہوجائے؟
یہاں مجھے صوفیانہ ادب سے ایسی مثالیں حاصل کرنے میں بہت مدد ملی جہاں کسی فرد نے اپنے طرزِ عمل کو غلط سمجھے جانے کا خطرہ لے کر اپنے منتخب کردہ اخلاقی اصول پر اصرار کیا۔ اس قسم کی پہلی مثال الہجویری کی کتاب کے اس حصے میں ملتی ہے جہاں ملامتیوں کا احوال بیان کیا گیا ہے، جن میں نویں صدی کے صوفی ابویزید بسطامی کو نمایاں حیثیت حاصل تھی۔ الہجویری لکھتے ہیں:
’’(ایک بار جب ابو یزید) حجاز سے واپسی پر شہررے میں داخل ہورہے تھے، شہر کے لوگ انھیں اعزاز دینے کے لیے دوڑ کر ان کے استقبال کو پہنچے۔ ان کی توجّہ سے ابو یزید کے استغراق میں خلل پڑا اور ان کا دھیان خدا کی طرف سے ہٹ گیا۔ جب وہ بازار میں پہنچے تو انھوں نے اپنی آستین سے روٹی نکالی اور کھانے لگے۔ سب لوگ ان سے دور ہٹ گئے کیوں کہ یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ انھوں نے اپنے ایک شاگرد سے، جو اُن کے ساتھ سفر کررہا تھا، کہا: ’دیکھا، میں نے ابھی شریعت کے ایک جز پر عمل کیا تو ان سب نے مجھے رد کردیا‘۔‘‘۴
ابویزید نے ماہِ رمضان کا ضابطہ نہیں توڑا تھا۔ سفر کی حالت میں ان پر روزہ رکھنا فرض نہ تھا۔ علاوہ ازیں، اپنے اس عمل سے وہ اس اخلاقی حکم کی بھی پابندی کررہے تھے کہ مذہبی معاملات میں شدت پسندی سے احتراز کیا جائے۔ اس کے علاوہ قدیم اسلامی اخلاقیات کی بحثوں میں ظاہر اور باطن کی جو ثنویت کارفرما رہتی تھی، اس کی رو سے بھی ابویزید نے ’باطن‘ کی آواز پر توجّہ دی تھی اور ’ظاہر‘ کو نظر انداز کردیا تھا۔ تاہم شہررے کے باشندوں کو صرف وہی دکھائی دیا جو ظاہر تھا، چناں چہ انھوں نے ابویزید کو رد کردیا۔
دوسری مثال کا تعلق اس قرآنی قصّے سے ہے جس میں خدا نے فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ نوتخلیق شدہ آدم کو سجدہ کریں۔ بعض صوفیوں نے راندۂ درگاہ فرشتے یعنی ابلیس کو سب سے بڑا موحّد قرار دیا ہے، کیوں کہ اس نے خدا کے حکم پر بھی خدا کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ اینا ماری شمل لکھتی ہیں:
’’… احمد غزالی (متوفی ۱۱۲۶ھ) نے، جو ابلیس کی بحالی کے کلاسیکی مویّد ہیں… یہ تک کہنے کی ہمت کرڈالی کہ ’جو ابلیس سے توحید کا سبق نہیں لیتا وہ کافر ہے‘۔۔۔۔ اس بات پر کٹر عقیدہ پرست طیش میں آگئے لیکن انھیں بعد کی متعدد صوفیانہ تحریروں میں اس کی گونج سنائی دی‘‘۔۵
جہاں تک میں ان دونوں واقعات کو سمجھ پایا ہوں، ابویزید نے اپنی انفرادیت کا تحفظ دکھاوے کی پارسائی کو مسترد کرکے اور وہ طرزِ عمل اختیار کرکے کیا جو خود ان کی نظروں میں مناسب طرزِ عمل تھا، خواہ اس سے کٹر عقیدہ پرست کتنے ہی برہم کیوں نہ ہوں۔ دوسری جانب ابلیس نے اپنی انفرادیت پر زور دینے کے لیے اپنے اوپر وہ پابندی عائد کی جسے خدا نے خود ہی اٹھا لیا تھا، حالاں کہ اس عمل کی بنا پر وہ ابدی لعنت کا سزاوار ٹھہرا۔ پہلی مثال میں مطلوبہ ’ادب‘ کو اضافی حیثیت دے دی گئی۔۔۔۔ یعنی اسے وقت اور مقام کے بارے میں زیادہ حساس بنایا گیا۔۔۔۔ جب کہ دوسری مثال میں متعلقہ ’ادب‘ کو ناقابلِ تغییر بنادیا گیا، خواہ حالات کچھ ہی کیوں نہ ہوں۔ اگرچہ ان دونوں مثالوں کے کرداروں کا طرزِ عمل اپنے ’ظاہر‘ میں قابلِ اعتراض تھا، لیکن باخبر لوگوں نے دونوں کے طرزِ عمل کو پارسائی سے تعبیر کیا اور انھیں ان کی ’باطنی‘ خصوصیت کی بنا پر استثنائی قرار دیا۔
اپنے طرزِ عمل میں دوسروں سے مختلف ہونے، ہمہ گیر اور غیر شخصی آداب کی عائد کی ہوئی تقلید کو ترک کرنے کی یہ آرزو اشرافی اسلامی ثقافتوں میں ضرور ظاہر ہوتی رہی ہوگی اور یہ امر صرف صوفیوں تک محدود نہ رہا ہوگا۔ اپنے مضمون کے بقیہ حصے میں مَیں انیسویں صدی میں لکھنؤ کی شمالی ہندوستانی ثقافت سے اس قسم کی ایک مثال کو تفصیل سے پیش کروں گا جہاں اس آرزو نے ’وضع داری‘ کے عنوان سے اپنا اظہار پایا۔
اسمِ مجرد ’وضع داری‘ اسمِ صفت ’وضع دار‘ سے مشتق ہے، جس کا لغوی مطلب ہے ایسا شخص جو اپنی خاص وضع، یعنی انداز، اسلوب، قطع یا ہیئت رکھتا ہو۔ دوسرے لفظوں میں ’وضع دار‘ وہ شخص ہے جس میں کوئی ممتاز ہیئت یا انداز ظاہر یا مجسم ہوا ہو۔ تاہم انیسویں صدی کی لکھنوی ثقافت میں ’وضع دار‘ اس سے کہیں زیادہ معنی رکھتا تھا۔ ۱۹۰۸ء میں شائع شدہ ایک کتاب سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو:۶
’’اودھ کے آخری بادشاہ کے عہد میں جس وقت یہاں کا آفتابِ اقبال گہنا رہا تھا، مرزا علی رضا بیگ کوتوالِ شہر بھی بڑے وضع دار گزرے ہیں۔ اسی زمانے میں ایک سیّد صاحب سپاہی منش بہت ہی پریشان حال تھے۔ ایک روز اُن کی بی بی نے کہا کہ تم سپاہی ہو، کہیں فکرِ معاش میں جاؤ، گھر میں بیٹھے ہوئے کب تک مصیبت اٹھاؤگے۔ اُنھوں نے جواب دیا کہ اب شریف کے قدردان نہیں رہے۔ بی بی نے کہا کہ سنتی ہوں، علی رضا بیگ کوتوال بڑے شریف پرور ہیں۔ میر صاحب نے کہا، سنا کرو۔ آخر بی بی نے مجبور کرکے کوتوال صاحب کے پاس بھیج ہی دیا۔ میر صاحب مسلّح ہوکر کوتوال صاحب کی صحبت میں گئے اور ان کا پہلو دباکر بیٹھ گئے۔ حاضرینِ صحبت کو ان کی یہ حرکت ناگوار گزری اور آپس میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔ کوتوال صاحب نے بعد استفسارِ مزاج نام و نشان دریافت کیا۔ جب یہ بتا چکے، کوتوال صاحب نے دل لگی سے ان کی بیوی کا نام پوچھا۔ میر صاحب سپاہی منش آدمی، سادات ہونے پر غرّہ، یہ سوال ناگوار گزرا، اور جواب دیا کہ بی بی کا نام تو اس وقت یاد نہیں رہا، ہاں سالے کا نام علی رضا بیگ کوتوال مشہور ہے۔ یہ جملہ تمام کرکے اُٹھ کھڑے ہوئے اور سیدھی اپنے گھر کی راہ لی۔ کوتوال صاحب کی صحبت کے لوگوں نے چاہا کہ ان سے اس گستاخی پر باز پُرس کریں مگر انھوں نے منع کیا اور کہا، افسوس، تم نے اس شخص کو پہچانا نہیں۔ دیکھو کیسی وضع داری اور جواں مردی سے اس نے اپنی بی بی کا نام مردوں کی صحبت میں اخفا کیا اور کس بہادری سے مجھے میری صحبت میں اپنا سالا بنا گیا۔ میں بھی اگر وضع دار ہوں تو اس کے قول کو نباہ کے دکھا دوں گا۔ دوسرے ہی روز کوتوال صاحب پانچ سو روپیہ نقد اور کچھ تھان مشروع اور کمخواب کے کشتیوں میں لگاکر میر صاحب کے دروازے پر آکھڑے ہوئے اور دَقّ الباب کیا۔ میر صاحب گھر ہی میں موجود تھے۔ دریافت کیا، کون ہے؟ جواب دیا، آپ کا سالا علی رضا بیگ۔ میر صاحب بھی وضع دار تھے، جب ان کی بات کو کوتوال صاحب نے اصلی رنگ میں رنگا تو پھر یہ کب اپنی بات سے پلٹتے، فوراً پکار کے کہا کہ سالے سے پردہ کیا، تشریف لائیے۔ کوتوال صاحب مکان میں داخل ہوئے۔ میر صاحب کی بی بی ایک غیر شخص کو دیکھ کر چھپنے لگیں، مگر میر صاحب نے کہا، کیوں چھپتی ہو، یہ تو تمھارے بھائی ہیں۔ کوتوال صاحب نے اپنی (منہ بولی) بہن کے آگے کشتیاں رکھوا دیں اورکہا کہ اپنے بھائی کا یہ ہدیہ قبول کرو۔ کشتیاں رکھوا دی گئیں اور کچھ دیر کے بعد کوتوال صاحب رخصت ہوئے۔ اُس دن سے اپنی بہن کے یہاں اکثر آیا جایا کیے، بلکہ ایک معقول مشاہرہ بھی ان کا مقرر کردیا اور برابر ماہ بہ ماہ دیتے رہے…
کچھ دن بعد کوتوال صاحب کو ایک مہم پیش آئی۔ بادشاہ نے بجائے فوجی افسر کو معین کرنے کے محض ان کی شجاعت اور دلیری کی وجہ سے ان کو ایک سرکش راجہ کا سر کاٹ کر لانے کا حکم دیا۔ یہ اپنے سپاہیوں کو لیے ہوئے مہم پر روانہ ہوئے اور امتحاناً میر صاحب کو خبر نہ کی۔ ان کو یقین تھا کہ میر صاحب سا شجاع اور وضع دار آدمی اس خبر کو سن کر کبھی قدم پیچھے نہ رکھے گا۔ کوتوال صاحب راستے بھر پیچھے مڑمڑ کے دیکھتے جاتے تھے مگر میر صاحب کا پتا کہاں۔ جب کوتوال صاحب نے کئی بار مڑمڑ کے دیکھا تو کسی منہ چڑھے سپاہی نے عرض کی کہ حضور باربار کیا دیکھتے ہیں؟ جواب دیا کہ میر صاحب کو۔ سپاہی نے کہا کہ ایسے جان جوکھم کے وقت کون کس کا ساتھ دیتا ہے۔ حضور نے اُس صحبت میں ان کی وضع داری اور بہادری کی نسبت یوں ہی رائے قائم کرلی تھی۔ کوتوال صاحب کچھ منغض سے معلوم ہوئے، گویا ان کو اس وقت بھی اپنے خیال سے پلٹنے میں تکلیف معلوم ہوئی۔ اسی گفت و شنود میں منزلِ مقصود تک پہنچ گئے۔ اس وقت کوتوال کی منتظر نگاہیں بڑی بے چینی اور بے صبری کے ساتھ اِدھر اُدھر میر صاحب کو ڈھونڈ رہی تھیں کہ یکایک یہ خبر ملی کہ رات کو کوئی شخص راجہ کا سر کاٹ لے گیا۔ کوتوال صاحب نہایت ہی خوش ہوئے اور فخریہ سپاہیوں کی طرف مخاطب ہوکے کہا کہ بس اب چلو، میر صاحب اپنا کام کرگئے۔ واپس آتے ہی میر صاحب کے مکان پر پہنچے۔ میر صاحب اس وقت گھر میں نہ تھے۔ ان کی بی بی سے میر صاحب کو پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ کہیں باہر ہی گئے ہیں اور رومال میں بندھی ہوئی کوئی چیز آپ کے واسطے رکھ گئے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ رومال پیش کردیا۔ کوتوال صاحب رومال لے آئے اور اسے کھول کر سپاہیوں کو راجہ کا سر دکھایا، گویا اپنی صحیح رائے قائم کرنے کی داد چاہی‘‘۔
یہ قصہ سیّد محمد ہادی لکھنوی کی کتاب ’وضع دارانِ لکھنؤ‘ سے نقل کیا گیا ہے۔ اپنے بیان میں مصنف نے اپنی طرف سے دو ذاتی تبصرے شامل کیے ہیں۔ ایک تبصرے میں وہ کوتوال کی تعریف کرتے ہیں کہ ’’یہ کوتوال صاحب کی انتہاے وضع داری تھی کہ دوسرے کے قول کو نباہا‘‘ اور دوسرے میں میر صاحب کو سراہتے ہیں کہ ’’یہ تھی میر صاحب کی سچی وضع داری جو وفاداری کی صورت میں ایسے اہم موقعے پر ظاہر ہوئی‘‘۔ یہ بات قابلِ توجّہ ہے کہ ہادی لکھنوی کے نزدیک اپنے قصّے کے دونوں کرداروں کی بعد کی وضع داری اتنی زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ وہ روزمرہ آداب کی ان خلاف ورزیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں جو اُن سے ابتدا میں سرزد ہوئیں: مروّج ادب کے لحاظ سے میر صاحب کو چاہیے تھا کہ مجلس کے حاشیے پر بیٹھتے اور بلائے جانے پر ہی کوتوال کے نزدیک پہنچتے، اور کوتوال کو ہرگز واجب نہ تھا کہ برسرِمحفل کسی دوسرے کی بیوی کا نام دریافت کرتا۔
جن دنوں، یعنی ۱۹۴۰ء کی دہائی میں، میں لکھنؤ سے کچھ ہی دور واقع چھوٹے سے شہر بارہ بنکی میں بڑا ہورہا تھا، ’وضع داری‘ اور ’وضع دار‘ اس وقت تک اس معاشرے میں زبان زدِ عام تھے۔ لیکن ان سے اس قسم کا طرزِ عمل مراد ہوتا تھا جیسا اسی کتاب میں مندرج ایک اور قصّے میں ظاہر ہوتا ہے:
’’میر سیّد حسین ساکن محلہ نواز گنج… اپنے ایک دوست کے یہاں… روز جایا کرتے تھے اور گھنٹوں نشست رہتی تھی۔ دوست نے ایک دن تذکرتاً کہا کہ بھئی تمھارے نواز گنج کی بالائی اچھی ہوتی ہے، کبھی لیتے نہیں آتے۔ یہ کچھ ہوں ہاں کہہ کر چپ ہورہے۔ دوست نے اکثر تذکرتاً کہا اور یہ اسی طرح بے توجہی سے سنتے رہے۔ ایک دن پھر دوست نے یاد دلایا تو کہا کہ کل سے ضرور آئے گی۔ میر صاحب جب تک زندہ رہے، روز پاؤ بھر بالائی لایا کیے۔ ان کے دوست نے لاکھ لاکھ منع کیا لیکن یہ اپنی وضع کے خیال سے لاتے ہی رہے اور یہی کہا کیے کہ یہ تو اب وضع میں داخل ہوگئی ہے‘‘۔۷
جیساکہ مجھے اُن دنوں بتایا جاتاتھا، اور جس طرح اب میں اس قصّے کا مفہوم سمجھتا ہوں، میر صاحب نے ایک ایسے عمل کو خود پر لازم ٹھہرایا جو تسلیم شدہ آداب کی رو سے ان پر پہلی بار کے سوا لازم نہ تھا۔ روایتی اصطلاح میں انھوں نے ایک ’واجب‘۔۔۔۔ یعنی ضروری اور مناسب۔۔۔۔ عمل کو خود پر ’فرض‘ کرلیا، یعنی ایسا عمل قرار دے لیا جس کا انجام دینا لازم ہے اور جسے انجام دینے میں کوتاہی کو سنگین خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔ دوست کے پہلی بار فرمائش کرنے پر میر صاحب پر واجب تھا کہ وہ اس کے لیے اپنے محلے کی یہ سوغات لے کر آتے؛ یہ بات بھی اتنی ہی مناسب ہوتی کہ اس کے بعد وہ یہ عمل کبھی کبھی دُہراتے۔ لیکن انھوں نے اسے خود پر فرض ٹھہراکر اسے اپنی وضع قرار دے دیا۔ یہ امر کہ بعد میں اپنے دوست کے باربار منع کرنے پر بھی وہ اپنی وضع پر قائم رہے، اس پر دلالت کرتا ہے کہ وضع داری روزمرہ کے عام آداب پر فوقیت رکھتی تھی۔
مبادا آپ سمجھیں کہ یہ محض خبطی پن تھا، انھی میر سیّد حسین کا ایک اور قصّہ سنیے:
’’زمانۂ غدر میں ایک صاحب (انگریز) کی لڑکی کو اس کی آیا لے کر جان کے خوف سے بیلی گارڈ کے تہ خانے میں چھپ رہی اور پھر وہاں سے نکلنے کا موقع نہ پایا۔ بیچارے صاحب اور میم صاحب رات بھر غم سے تڑپا کیے۔ صاحب کی یہ حالت دیکھ کر ان کے خانساماں نے کہا، آپ گھبرائیے نہیں، میں پتا لگاتا ہوں۔ یہ کہہ کر ڈھونڈنے چل کھڑا ہوا۔ خانساماں میر سیّد حسین کے پاس اکثر آیا کرتا تھا اور ان کی وضع داری اور شجاعت سے بھی خوب واقف تھا۔ ایک بجے رات کو ان کے دروازے پر آموجود ہوا۔ میر صاحب نکلے اور دریافت کیا کہ خیریت تو ہے۔ اس نے کہا کہ آپ کے پاس ایک حاجت لے کے آیا ہوں۔ ہمارے صاحب کی لڑکی اور اس کی آیا کھوگئی ہے۔ یہ پتا چلتا ہے کہ بیلی گارڈ کی طرف آئی تھی۔ وہاں ہزاروں لاشیں پڑی ہیں، تنہا جانے کی ہمت نہیں پڑتی۔ اگر آپ مدد کریں تو کامیاب ہوسکتا ہوں۔ میر صاحب سے کوئی مدد مانگے اور وہ انکار کریں! بے ساختہ زبان سے نکلا کہ اچھا۔ پھر کیا تھا، فوراً ساتھ ہوئے۔ لاشوں پر سے گزرتے ہوئے اور ان میں آیا اور بچّے کو تلاش کرتے ہوئے بیلی گارڈ پہنچے۔ تہ خانے کے اندر بھی آپ ہی تشریف لے گئے اور عورت اور بچّے کو ڈھونڈ نکالا اور خانساماں کو اس کے صاحب کے جاے قیام تک پہنچاکر لوٹ آئے۔ صاحب نے خانساماں سے دریافت کیا کہ کیوں کر پتا لگا؟ اس بھلے آدمی نے کہا کہ میر سیّد حسین ایک شخص ہیں، انھوں نے ڈھونڈ دیا۔ صاحب نے ان کا نام اور پتا یادداشت کے طور پر لکھ لیا۔ تسلط کے بعد میر صاحب کے نام طلبی کا ٹکٹ آیا۔ آپ ڈپٹی کمشنر کے اجلاس پر تشریف لے گئے۔ انھوں نے کہا کہ تم نے بہت اچھا سرکار کی خیرخواہی کا کام کیا ہے، اس لیے سرکار تمھیں اس قدر جاگیر انعام میں دیتی ہے۔ میر صاحب نے جواب دیا کہ میں نے یہ کام نہیں کیا، فلاں خانساماں نے کیا ہے۔ میں اس جاگیر و انعام کا مستحق نہیں ہوں۔ خانساماں طلب ہوا۔ اس بھلے آدمی نے کہا، جو کچھ کیا میر صاحب ہی نے کیا۔ مگر میر صاحب نے ایک نہ مانی اور وہ سب جاگیر و انعام خانساماں ہی کو دلوادیا‘‘۔۸
ہادی لکھنوی اس واقعے پر یوں تبصرہ کرتے ہیں: ’’وضع داری اس کا نام ہے کہ ایک ادنیٰ خانساماں، جو آمد و رفت کی وجہ سے یہ سمجھنے لگا تھا کہ میر صاحب ہمارے وقت پر کام آئیں گے، ایک بجے رات کو آکر جگاتا ہے اور یہ نکل آتے ہیں اور ایسے خطرناک کام کی ہامی بھرتے ہیں اور پھر اس کو اس خوبی سے انجام تک پہنچاتے ہیں۔ اللہ ری وضع داری!‘‘
اب ہم ہادی لکھنوی کے اپنے بیان کی طرف آتے ہیں کہ وضع داری کے ان کے نزدیک کیا معنی تھے۔ کتاب کے تعارف میں پہلے وہ سوال کرتے ہیں، ’وضع داری ہے کیا؟‘ اور پھر لکھتے ہیں:
’’اچھے قول و فعل کی پابندی۔ یہ صفت اِس زمانے میں تو معدودے چند آدمیوں میں پائی جاتی ہے مگر کبھی اس کا تعلق ہر شریف سے روح و تن کی طرح تھا۔ ’سر جائے، سودا نہ جائے‘ انھیں لوگوں کا مقولہ ہے۔ ’قولِ مرداں جان دارد‘ انھیں لوگوں کا اصول۔ بعض نافہموں کا خیال ہے کہ ہر اچھے بُرے قول و فعل کی پابندی کو وضع داری کہتے ہیں۔ اگر کسی کو جوا کھیلنے کی لت ہو اور عمر بھر جوا کھیلا کرے، کسی کو جھوٹ بولنے کی عادت ہو اور ہر وقت جھوٹ ہی بولا کرے، اس کو بھی وضع داری کہیں گے؛ حالاں کہ یہ بدوضعی ہے۔ جو شخص بات بات پر میان سے تلوار گھسیٹتا ہو اس کو شجاع نہیں کہتے، بگڑے دل کہتے ہیں۔ عزت و آبرو بچانے کے وقت، مال و متاع کی حفاظت کے وقت، حریف سے مقابلے کے وقت تلوار سے کام لینا البتہ شجاعت ہے۔ اسی طرح اچھے قول و فعل کی پابندی وضع داری کہلاتی ہے اور بُرے فعل کی بدوضعی‘‘۔
اس کے بعد وہ چند دل چسپ تفصیلیں پیش کرتے ہیں:
’’وضع داری کے موصوف میں جتنے اوصاف پائے جاتے ہیں، کسی دوسری صفت کے موصوف میں اُتنے اوصاف کا مجتمع ہونا بالکل ہی محال ہے۔ محبت، کفایت شعاری، وفاداری، مستعدی، اوقات کی پابندی، خودداری، حیلہ، دینداری، سب وضع داری ہی کے جلوے ہیں۔ وضع دار جب کسی کے ساتھ محبت کا لفظ استعمال کرے گا، مرتے مرتے نباہے گا۔ وضع اپنی ایسی رکھے گا جسے وہ ہمیشہ قائم رکھ سکے۔ اگر کسی وقت اس کی بہت بڑی آمدنی ہوجائے تو وہ متشین نہیں بنے گا بلکہ دوراندیشی سے کام لے کر نازک سے نازک حالت جو رفتارِ زمانہ سے ہوسکتی ہے، پیش نظر رکھے گا اور اپنے انداز سے باہر قدم نہ رکھے گا۔ وہ وعدہ کرنے میں جلد بازی نہیں کرے گا، اور جب وعدہ کرلے گا تو پھر جب تک دم میں دم ہے، اسے وفا کرے گا۔ وہ نہایت ہی مستعد اور پابندِ اوقات ہوگا، اس لیے کہ مستعدی نہ ہونے سے وضع داری ہاتھ سے جاتی ہے، کیوں کہ بغیر اس کے قول کی پابندی ممکن نہیں، اور بغیر اوقات کی پابندی کے مستعدی ناممکن۔ وضع دار جس سے جس داشت سے ملے گا اس کو ہمیشہ قائم رکھے گا۔ وہ باحیا بھی انتہا کا ہوگا، اس لیے کہ یہ حیا ہی اس کی ایسی رفیقِ قلبی ہے جو خلافِ وضع افعال کی ممانعت کرتی رہتی ہے۔ وضع دار جس مذہبی عقیدے کو تسلیم کرے گا، ایسا راسخ العقیدہ ہوجائے گا کہ قیامت میں بھی اُسی عقیدے پر اٹھے گا‘‘۔۹
ان تمام خصوصیات کی روشنی میں وضع داری ایک ’اسلوبِ حیات‘ معلوم ہوتی ہے جس کا انتخاب اس فرد نے اپنے لیے خود کیا ہو۔ بلکہ اپنا اسلوب چننے کا دانستہ عمل ہی وہ بات ہے جو اس فرد کو وضع دار بناتی ہے، لیکن ’حقیقت میں‘ وضع دار بننے کے لیے اس شخص کو سب سے بڑھ کر ایک صفت کا اظہار کرنا ہوتا ہے: مستقل مزاجی یا استواری۔ اس کے وضع دار طرزِ عمل میں کبھی تبدیلی نہیں آنی چاہیے؛ اسے بدلتے ہوئے حالات کے تحت کیے جانے والے سمجھوتوں سے الگ رہنا چاہیے۔
۱۸۸۰ء اور ۱۹۳۰ء کے درمیانی عشروں کے دوران لکھنؤ کی اشرافی ثقافت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے مرزا جعفر حسین کی کتاب ’قدیم لکھنؤ کی آخری بہار‘ کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ اس کتاب میں ایک پورا باب وضع داری کے موضوع پر ہے اور اس میں وضع داری کے وہ مختلف نمونے پیش کیے گئے ہیں جو مصنف کے مشاہدے یا سماعت میں آئے۔۱۰ مرزا جعفر حسین لکھتے ہیں: ’’وضع کے معنی و مفہوم ہیں ’دستو ر اور ترتیب‘۔۱۱ اس لیے وضع دار اس شخص کو کہنا چاہیے جو اپنی زندگی کے تمام کاروبار، رہن سہن، میل ملّت میں ایک ترتیب رکھتا ہو اور متوازن طور پر ایام گزاری کرے۔ جس طرز کو اختیار کرے اسی پر ہمیشہ کاربند رہے‘‘۔۱۲
مرزا جعفر کے نزدیک وضع داری ہر طبقے کے افراد میں پائی جاسکتی ہے۔ کوئی وضع دار باورچی اپنا کوئی خاص پکوان صرف کسی خاص مربی کے لیے تیار کرے گا، اور زیادہ معاوضے کے لالچ میں اسے دوسرے لوگوں کوپیش نہیں کرے گا، اور کسی وضع دار دُکاندار کو اگر معلوم ہو کہ کوئی چیز اس کی دُکان کے کسی بندھے ہوئے گاہک کو پسند ہے تو وہ اس چیز کو کسی اور کے ہاتھ فروخت نہیں کرے گا۔ اس کے بعد مرزا جعفر حسین ایک واقعہ اپنے معنی خیز تبصرے کے ساتھ مفصل بیان کرتے ہیں:
’’لکھنؤ کے رؤسا و عمائدین کی تمام معاشرت یوں تو ایک خاص ترتیب کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی لیکن کبھی کبھی کسی افتاد یا غیرمعمولی واقعے یا کسی اتفاق کے سبب سے وہ ترتیب بگڑ جاتی تو اس بگڑی ہوئی صورت کو وہ اس طرح اپنا لیتے تھے کہ وہی ان کی مخصوص وضع داری ہوجاتی تھی۔ اس سلسلے میں یہ واقعہ یا سانحہ یاد آتا ہے کہ ایک مرتبہ نواب حیدر حسین خاں مرحوم، جن کے نامِ نامی سے موسوم پھاٹک اب تک چوک میں موجود ہے، شام کے وقت محل سے ہوا خوری کے لیے برآمد ہوئے۔ اپنی گھوڑا گاڑی پر روانہ ہونے والے ہی تھے کہ مقابل سے آتے ہوئے ایک شناسا بزرگ، جو اسی محلے میں رہتے تھے، ان کو آداب و تسلیمات بجا لائے لیکن ساتھ ہی مسکرا بھی دیے، جو تہذیب سے گری ہوئی حرکت تھی۔ نواب مرحوم نے جوابِ سلام دیا اور آگے بڑھ گئے، لیکن ان کے مسکرا دینے پر خیال جما رہا، جس کی وجہ سمجھنے کے لیے اپنی وضع قطع کا جائزہ لیا تو یہ محسوس ہوا کہ ان کے انگرکھے کا تکمہ کھلا ہوا تھا۔ گرمی کی شدّت کے باعث یا کسی اور وجہ سے وہ تکمہ لگائے بغیر گھر سے برآمد ہی نہیں ہوئے تھے بلکہ تکمہ لگانے کا خیال بھی محو ہوگیا تھا۔ ان کو بڑی خفت محسوس ہوئی جس کا ازالہ صرف اس طرح کیا گیا کہ پھر انھوں نے زندگی بھر انگرکھے کا تکمہ نہیں لگایا، اور یہی کھلی ہوئی گردن کا انگرکھا ان کی وضع داری میں داخل ہوگیا۔ اس واقعے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کلچر کی تعمیر میں اتفاقات کو بھی دخل تھا۔ وہی اتفاقات کبھی کبھی بے ترتیبی کو بھی قبول کراکے عین ترتیب بنادیتے تھے‘‘۔۱۳
’ادب‘ سے متعلق متون کے اپنے محدود مطالعے کے دوران میں نے مستقل مزاجی یا استقامت پر کہیں اتنی تاکید نہیں پائی، اور نہ مجھے ان میں کہیں ’وضع داری‘ کا لفظ ملا۔ چناں چہ اس تصور کی تاریخ کو کھنگالنے کی غرض سے میں نے فارسی اور اردو کی ان لغات سے رجوع کیا جو برصغیر میں تالیف کی گئی تھیں۔
ہندوستان میں مرتّب کی جانے والی اہم ترین فارسی لغات سے جن میں ’منتخب اللغات‘ (سترہویں صدی) قدیم ترین، اور ’فرہنگ آنند راج‘ (۱۸۸۸ء) تازہ ترین ہے۔۔۔۔ معلوم ہوا کہ ان میں بنیادی لفظ ’وضع‘ تو ہمیشہ درج ہوتا ہے لیکن اس سے بننے والا اسم صفت ’وضع دار‘ کہیں نہیں پایا جاتا، حالاں کہ ’دار‘ کے لاحقے والے دوسرے لفظ ملتے ہیں۔۱۴ لفظ ’وضع‘ کے جو مختلف معنی ان لغات میں درج ہیں وہ یہ ہیں:
فرہنگِ نفیسی:
’وضع‘: نہاد و جای و ترتیب و ساخت و بنا و طرز و روش۔
’وضیع‘: مردمِ فرومایہ و ناکس۔
فرہنگِ آنند راج:
’وضع‘: طرز و روش، نیز وضع نہادن و بمعنی ترتیب و بمعنی ساختن نیز مستعمل۔
’وضیع‘: مردمِ فرومایہ دونی و از مرتبہ فرو افتادہ۔
منتخب اللغات:
’وضع‘: نہادن چیزی در جای و زائیدن و امانت نزدِ کسی گذاشتن… و از مرتبہ خود افگندن چیز را۔
’وضیع‘: خرمای ترکہ خشک ناشدہ و ز طرف گذارند و فرومایہ و ناکس و امانت۔
اس لفظ کے مترادفات کے طور پر فارسی لغات میں ’طرز‘ یا ’روش‘ کے لفظ ملتے ہیں۔ ہندوستان کے فارسی دانوں نے غالباً وضع دار کو ایک آزاد، بامحاورہ اظہار کے طور پر درج کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔۱۵ تاہم میری توجہ ان میں درج لفظ ’وضیع‘ کی طرف مبذول ہوئی جو ’وضع‘ کے قریب ہی درج ہوتا ہے اور جس کا عربی مادّہ وہی ہے جو ’وضع‘ کا ہے۔ ’وضیع‘ کو فارسی اور اردو دونوں میں ’شریف‘ کی ضد کے طور پر عام استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے میرا دھیان اس امکان کی طرف گیا کہ ’اپنی مخصوص وضع رکھنا‘ بعض صورتوں میں ’قابلِ اعتراض وضع رکھنے‘ کے معنی میں بھی برتا جاتا ہو۔
اردو کی اوّلین قابلِ ذکر لغت، جان شیکسپیئر کی A Dictionary of Hindustani and English پہلی بار ۱۸۱۷ء میں شائع ہوئی تھی۔ بعد میں اسے مرتّب کی زندگی میں کئی بار نظرِ ثانی اور توسیع کے ساتھ شائع کیا گیا۔ اس کے تیسرے اڈیشن میں، جو ۱۸۳۴ء میں شائع ہوا، ’وضع‘ کے درج ذیل معنی دیے گئے ہیں:
''situation, state, condition, manner, mode, procedure, position, conduct, behaviour."
اس میں ’وضع دار‘ کی ترکیب موجود نہیں۔
ایس. ڈبلیو. فیلن کی A New Hindustani-English Dictionary, with Illustrations from Hindustani Literature and Folklore کی اشاعت ۱۸۷۹ء میں ہوئی تھی۔ اس میں ’وضع‘ کی ذیل میں لکھا ہے:
''(1) Nature; tenor. (2) Behaviour. (3) Mode; fashion; appearance. (4) Style. (5) Description; character; complexion (6) Deduction; retrenchment."
’وضع بدلنا‘ کے یہ معنی درج ہیں:
''to disguise oneself,"
اور اگرچہ اس لغت میں ’وضع دار‘ اور ’وضع داری‘ کے الفاظ موجود ہیں لیکن ان کے معنی بالترتیب ''stylish; elegant" اور ''style; manner; elegance" دیے گئے ہیں۔
اس کے پانچ برس بعد جان ٹی پلاٹس کی Dictionary of Urdu, Classical Hindi, and English شائع ہوئی۔ اپنی پیشرو لغات کے مقابلے میں یہ لغت بہت زیادہ وسیع تھی، لیکن اس میں ’وضع دار‘ کے معنی ''Of good appearance or form, &C. stylish, elegant," اور ’وضع داری‘ کے معنی ''Goodness of form, &C. manner, style, elegance." ملتے ہیں۔
مندرجہ بالا صفات سے ایسا لگتا ہے کہ پوری انیسویں صدی کے دوران اردو میں بھی اسمِ صفت ’وضع دار‘ اور اس سے متعلق اسمِ مجرد ’وضع داری‘ سے محض کوئی ایسا شخص یا شے مراد ہوتی تھی جو کوئی خاص ظاہری انداز رکھتی ہو۔ لیکن ’فرہنگِ آصفیہ‘ مولّفہ سیّد احمد دہلوی (پیدائش ۱۸۴۶ء) سے اس خیال کی تصحیح ہوجاتی ہے۔۱۶ وہ پہلے ’وضع‘ کے مانوس معنی درج کرتے ہیں، پھر اس سے مشتق دونوں الفاظ ’وضع دار‘ اور ’وضع داری‘ کو شامل کرتے ہیں اور ان کے مترادفات کے دو الگ الگ مجموعے پیش کرتے ہیں۔ ’وضع دار‘ کے سلسلے میں مترادفات کے پہلے مجموعے میں بارہ معنی شامل ہیں جن کا تعلق ظاہری ہیئت سے ہے؛ ان میں پہلا ’سجیلا‘ ہے اور آگے چل کر ’طرح دار‘ اور ’بانکا‘ بھی ساتھ ساتھ آتے ہیں۔ مترادفات کا دوسرا مجموعہ ’پابندِ وضع‘ سے شروع ہوتا ہے، اور اس کے بعد اس کی تفصیلی وضاحت آتی ہے: ’اپنی چال اور روش پر قائم رہنے والا‘۔ پھر وہ اس کی مثال کے طور پر اپنا ایک شعر درج کرتے ہیں:
کیا دل چلے ہوتے ہیں وضع دارِ محبت
ہنستے ہوئے جاتے ہیں سرِ دارِ محبت
اسی طرح ’وضع داری‘ کے معنی بھی دو الگ الگ مجموعوں کی شکل میں دیے گئے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس کی مثالوں کے طور پر سیّد احمد دہلوی نے جو تین شعر درج کیے ہیں وہ تینوں انیسویں صدی کے نصفِ آخر سے تعلق رکھتے ہیں۔۱۷
ظاہر ہوتا ہے کہ انیسویں صدی میں کسی وقت ’وضع دار‘ اور ’وضع داری‘ نے اردو استعمال میں آزاد، بامحاورہ اظہار کی حیثیت حاصل کرلی۔۱۸ ان میں سے ہر ایک کے معنی کے دو دو مجموعے تھے، ایک وہ جس سے ’وضع‘ کے بارے میں روایتی فہم کا اظہار ہوتا تھا۔۔۔۔ یعنی ظاہری ہیئت یا شباہت۔۔۔۔ اور دوسرا وہ جو اس معاشرتی خوبی کو بیان کرتا تھا جس کو اسی زمانے میں نمایاں اہمیت حاصل ہوئی تھی: یعنی اپنے منتخب کردہ ذاتی طرزِ عمل کو مستقل مزاجی سے نباہنا۔ ’فرہنگِ آصفیہ‘ کے اندراجات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شخصی طرزِ عمل کی خوبی کے معنوں میں وضع داری ’زوال پذیر‘ دہلی میں بھی اتنی ہی نمایاں تھی جیساکہ ’ترقی پذیر‘ لکھنؤ میں، اس کی بابت ہادی لکھنوی اور اس شہر کے دیگر محب دعویٰ کرتے ہیں۔
اگر انیسویں صدی کے دہلی اور لکھنؤ میں ایسا کوئی واحد گروہ تھا جس نے اس سلسلے میں امتیاز حاصل کیا کہ اس کے ارکان ایک طرف غیر معمولی، بعض اوقات قابلِ اعتراض ظاہری ہیئت اختیار کرتے تھے اور دوسری طرف اپنے شخصی طرزِ عمل میں مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے تھے، تو وہ مردوں کی وہ ٹولی تھی جسے ’بانکے‘ کہا جاتا تھا۔ یہاں مجھے افسوس کے ساتھ یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ آگے کی سطروں میں مَیں بانکوں کے بارے میں جو کچھ لکھنے والا ہوں اس کا انحصار بڑی حد تک میری یادداشت پر ہے۔ میں نے اپنے لڑکپن میں اپنے بڑوں سے لکھنؤ کے بانکوں کے بہت سے قصّے سنے اور مضامین اور کتابچوں میں ان کے بارے میں بہت سے پُرلطف بیان پڑھے، لیکن اب میں ان مطبوعات میں سے کسی کو بھی تلاش نہیں کرپایا۔۱۹
میری یادداشت میں جو قصّے محفوظ رہ گئے ہیں ان میں بانکوں کی ظاہری ہیئت میں کوئی خاص چونکا دینے والی بات ضرور ہوتی تھی، کوئی ایسی بات جسے ان کے ارد گرد کی شائستہ معاشرت پوری طرح قبول نہ کرتی تھی، مثلاً زنانہ لباس پہننا، یا مردانہ لباس کے ساتھ ناک میں عورتوں کی طرح نتھ پہننا، یا بے تحاشا لمبی مونچھیں رکھنا، یا صرف آدھی ڈاڑھی مونڈنا اور آدھی چھوڑ دینا، جاڑوں میں گرمیوں کے اور گرمیوں میں گرم کپڑے پہننا، یا لوگوں کے سامنے اپنے طرزِ عمل کی کسی ٹیڑھ پر قائم رہنا۔ لیکن انھی بانکوں پر جب کوئی فقرہ کستا یا ناگواری کا اظہار کرتا تو وہ اس کا تصفیہ اسی وقت تلوار سے کر ڈالتے۔ دوسری طرف بہت سے قصّوں میں ایسا ہی کوئی بانکا ایک مظلوم کو کسی بدمعاش کی زیادتی سے بچانے کے لیے اپنی جان قربان کرنے میں ذرا دریغ نہ کرتا۔ ہادی لکھنوی کا نقل کیا ہوا مقولہ ’سر جائے، سودا نہ جائے‘ ان قصّوں میں اکثر دُہرایا جاتا تھا۔ یہ اس اخلاقی موقف کا بڑی صراحت سے اظہار کرتا ہے جس کا یہ بانکے منفرد طور پر دعویٰ رکھتے تھے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے، کوئی بھی بانکا معاشرے کے اونچے طبقوں سے تعلق نہیں رکھتا تھا، اور نہ انتہائی نچلے طبقوں سے۔ بانکوں کی اختیار کردہ قابلِ اعتراض ہیئت مجھے اور میرے ساتھیوں کو معاشرے کے ’اعلا ستونوں‘ کے درست انداز کی تحقیر کرتی معلوم ہوتی تھی جن کی ریاکاری اور بدمعاشی کا پردہ ان قصّوں میں فاش ہوجاتا تھا۔
لغات کی طرف لوٹتے ہوئے میں نے پایا کہ تینوں انگریز لغات نگاروں۔۔۔۔ فیلن، شیکسپیئر اور پلاٹس۔۔۔۔ نے ’بانکا‘ کے بہت سے معنی درج کیے ہیں لیکن ان سب کا تعلق ظاہری ہیئت سے ہے اور بیشتر منفی زاویہ رکھتے ہیں۔ ان کے پسندیدہ معنی یہ ہیں:
''fop; coxcomb; bully; fashionable and stylish."
سیّد احمد دہلوی نے اسی سے ملتے جلتے اردو الفاظ ’بانکا‘ کے مترادفات کے طور پر درج کیے ہیں لیکن ان میں ’وضع دار‘ کو بھی شامل کیا ہے اور اسے ’طرح دار‘ کے ساتھ رکھا ہے جس کے اردو میں معروف معنی ہیں: ’رنگیلا، چھبیلا‘۔ سیّد احمد دہلوی نے ’بانکا‘ کے معنی میں دو نئے لفظ ’دلیر‘ اور ’بہادر‘ بھی درج کیے ہیں اور مثال کے طور پر یہ فقرہ لکھا ہے: ’بانکا جوان ہے‘۔
میرے علم کی حد تک ’بانکے‘ کا لفظ پہلی بار ۱۸۰۸ء میں لکھی گئی ایک کتاب میں ملتا ہے۔ انشاء اللہ خاں انشاؔ (۱۸۱۷۔۱۷۵۳ء) اٹھارہویں صدی کی آخری دہائیوں کے ایک بے حد متنوع شاعر تھے؛ وہ اصل میں دہلی کے رہنے والے تھے لیکن ان کی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار لکھنؤ میں ہوا۔ اردو میں کثیر شاعری کرنے کے علاوہ انشاؔ نے اردو زبان کے بارے میں ایک کتاب ’دریاے لطافت‘ بھی۔۔۔ فارسی میں۔۔۔ لکھی، جس میں اردو کے علاقائی اور سماجی تنوع کا نہایت دل چسپ بیان ملتا ہے۔ اسی میں مختصراً دہلی کے بانکوں کا بھی ذکر آتا ہے، لیکن صرف اردو کی ابتدائی نشوونما میں ان کے ادا کردہ کردار کی تردید کے لیے۔۲۱ وہ لکھتے ہیں:
’’یہ بانکے (زبان کی) بحث سے خارج ہیں، کیوں کہ بانکے ہر شہر میں ہوتے ہیں۔ دہلی ہو یا دکن کے شہر، بنگالہ ہو یا پنجاب، ان سب کی ایک وضع اور ایک زبان ہوتی ہے۔ یہ لوگ مزاج کے ٹیڑھے ہوتے ہیں، چلتے بھی اینٹھ کر ہیں، اپنے بدن کو بہت دیکھتے رہتے ہیں اور ہر مونّث کو مذکّر بولنا ان کی عادت اور طریقہ ہے۔ چناں چہ ہماری بکری کو ہمارا بکرا کہتے ہیں‘‘۔۲۲
اس آخری خصوصیت سے فوری طور پر اندازہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا ذکر ہورہا ہے ان کی آبائی زبان اردو نہیں تھی۔ مایوس کن بات یہ ہے کہ قبل از جدید دور کی دہلی کی ثقافتی زندگی کے بارے میں معلومات کے تین کارآمد ذرائع۔۔۔۔ درگاہ قلی خاں کی ’مرقعِ دہلی‘ (اٹھارہویں صدی)، مرزا سنگین بیگ کی ’سیرالمنازل‘ (انیسویں صدی) اور سیّد احمد خاں کی ’آثارالصنادید‘ (انیسویں صدی)۔۔۔۔ ان لوگوں کے تذکرے سے قطعاً خالی ہیں۔
لکھنؤ کی طرف رُخ کیجیے تو وہاں کی انیسویں صدی کی ثقافتی زندگی کی معلومات کے دو اہم ذرائع مرزا محمد ہادی رسواؔ (۱۹۳۱۔۱۸۵۷ء) کا مشہور ناول ’امراؤ جان ادا‘ (۱۸۹۹ء) اور عبدالحلیم شررؔ ؔ (۱۹۲۶۔۱۸۶۰ء) کی تصنیف ’ہندوستان میں مشرقی تمدن کا آخری نمونہ‘ (۱۹۲۰۔۱۹۱۳ء) ہیں۔ موخرالذکر کتاب اب عام طور پر ’گذشتہ لکھنؤ‘ کے عنوان سے مشہور ہے۔
شررؔ ہمیں بانکوں کے بارے میں کچھ زیادہ بتاتے ہیں لیکن تعجب کی بات ہے کہ ان کی کتاب میں بانکوں کا ذکر اس پاجامے کے ذیل میں آتا ہے جو انیسویں صدی کے نصفِ اوّل میں لکھنؤ کے مردوں کا پہناوا تھا۔ شررؔ کے مطابق، اٹھارہویں صدی کی آخری دہائیوں میں قندھار سے بہت سے مرد آکر دہلی میں رہ پڑے تھے۔ وہ گھیردار پاجامہ پہنتے تھے جسے کسی گھاگھرے کی طرح بہت سی کلیوں کو ساتھ ساتھ جوڑکر سیا جاتا تھا۔ پھر شررؔ لکھتے ہیں:
’’وہ لوگ چوں کہ بڑے بہادر سمجھے جاتے تھے اس لیے یہاں کے عام سپہ گروں میں ان کی وضع و لباس اور عادات و خصائل رواج پانے لگے، اور یہ انھی کی برکت اور انھی کی صحبت کا اثر تھا کہ دہلی میں بانکے بڑے بڑے کلیوں دار پائینچوں کے پاجامے پہنتے۔ دہلی کے آخر عہد میں۔۔۔۔ (یعنی انگریزوں کے ۱۸۰۳ء میں دہلی پر قبضے سے پہلے کے سالوں میں)۔۔۔۔ بانکوں کی وضع داری و شجاعت اس قدر پسندیدہ ہوگئی کہ صدہا شریف زادوں